نئی دہلی24 ؍اکتوبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سی بی آئی کی اندرونی جنگ اور بڑھ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانہ کے سارے حقوق واپس لے لئے گئے ہیں۔ ساتھ ہی سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما اور سی بی آئی کے اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانہ کی لڑائی دہلی ہا ئی کورٹ پہنچ گئی۔راکیش استھانہ نے اپنے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کرانے کے لئے ہائیکورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا ہے۔کورٹ میں استھانہ نے کہا کہ ایک ملزم کے بیان کی بنیاد پر FIR درج کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ہائیکورٹ نے پیر تک استھانہ کی گرفتاری پر روک لگاتے ہوئے سی بی آئی اور اس چیف کو نوٹس جاری کیا ہے۔ سی بی آئی چیف کو راکیش استھانہ کے لگائے الزامات کا جواب دینا ہے۔ بتا دیں کہ اس سے پہلے دو کروڑ روپے مبینہ طور پر رشوت لینے کے معاملے میں سی بی آئی (CBI) میں کیس درج ہونے کے بعد گرفتاری سے بچنے کے لئے اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانہ نے دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ استھانہ نے CBI ڈائریکٹر آلوک ورما پر بدعنوانی اور بے ضابطگی کے معاملات میں 10 الزامات عائد کیے ہیں اور اس کے بارے میں کابینہ سکریٹری اور سی وی سی کو شکایتی خط لکھا ہے۔ سب سے بڑی تفتیشی ایجنسی کی اس جنگ پر حکومت نے خاموشی اختیار ہوئے ہے۔تاہم نجی ٹی وی این ڈی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ اس معاملے میں سی بی آئی چیف آلوک ورما اپنے نمبر دو یعنی اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانہ کے خلاف معطلی کی کارروائی چاہتے ہیں۔ اس بابت انہوں نے حکومت کو ایک خط بھی بھیجا ہے، جس میں راکیش استھانہ کو بدعنوان قرار دیا ہے۔ تازہ تنازعہ حوالہ اور منی لانڈرنگ کے ملزم گوشت کاروباری معین قریشی کیس میں مبینہ طور پر دو کروڑ روپے رشوت لینے کے الزامات سے منسلک ہے۔ اس کیس میں سی بی آئی ڈائریکٹر کی ہدایت پر ان کے خلاف کیس درج ہونے کے بعد سے سی بی آئی میں گھمسان مچا ہوا ہے۔ ملک کی اعلیٰ جانچ ایجنسی میں دو اعلی افسروں کے درمیان جاری اختلاف میں وزیر اعظم نریندر مودی کو دخل دینا پڑا تھا۔ سی بی آئی چیف آلوک ورما پیر کو وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملے تھے۔ 23 سال کی عمر میں ہی آئی پی ایس (IPS) بن گئے تھے راکیش استھانہ کام کے دوران سیاسی طور پر رسوخ دار شخصیات کے خلاف جانچ اور انہیں جیل بھجوانے کی وجہ سے جہاں ہمیشہ بحث میں رہے، وہیں تنازعات میں بھی گھرتے رہے ہیں ۔